صحیح بخاری حدیث ۴۴۶ - مسجد نبوی کی تعمیر اور توسیع
مسجد نبوی کی سادہ تعمیر اور بعد کی توسیع
صحیح بخاری : ۴۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا ، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا ، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقَفَهُ بِالسَّاجِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی۔ اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی اور ستون اسی کی کڑیوں کے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کی زیادتی نہیں کی۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بڑھایا اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجوروں کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی کڑیوں ہی کے رکھے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت کو بدل دیا اور اس میں بہت سی زیادتی کی۔ اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچھ سے بنائیں۔ اس کے ستون بھی منقش پتھروں سے بنوائے اور چھت ساگوان سے بنائی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسجد نبوی کی تعمیر کا حال بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی، چھت کھجور کی شاخوں کی تھی اور ستون کھجور کے تنوں کے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بڑھایا، مگر تعمیر اسی سادہ انداز پر رکھی۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عمارت بدلی، زیادہ اضافہ کیا، دیواریں منقش پتھروں اور گچ سے بنوائیں، ستون بھی پتھر کے بنوائے اور چھت ساگوان سے بنائی۔ حدیث کا موضوع مسجد نبوی کی تاریخ، مسجد کی توسیع، اور ضرورت کے مطابق تعمیر میں تبدیلی ہے، مگر اصل مقصد مسجد ہی رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد کی تعمیر سادہ بھی ہو سکتی ہے۔
- ضرورت کے وقت مسجد میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے مسجد کی خدمت کی۔
- عمارت بدلنے کے باوجود مسجد کا مقصد عبادت ہی ہے۔
