صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۲ - فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غم اور صبر

فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غم: وفات نبوی صلى الله عليه وسلم کے موقع پر صبر کی کیفیت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶۲

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام : " وَاكَرْبَ أَبَاهُ " ، فَقَالَ لَهَا : " لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ " ، فَلَمَّا مَاتَ ، قَالَتْ : " يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ يَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ " ، فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام : يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ ؟ .

انس بن مالک روایت:

شدت مرض کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی بہت بڑھ گئی تھی۔ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا نے کہا: آہ، ابا جان کو کتنی بے چینی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے ابا جان کی یہ بے چینی نہیں رہے گی۔پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں، ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، ہائے ابا جان! آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ ہم جبرائیل علیہ السلام کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفن کر دئیے گئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا ”انس! تمہارے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش پر مٹی ڈالنے کے لیے کس طرح آمادہ ہو گئے تھے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع غم اور صبر ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بیماری شدید ہوئی تو بے چینی بڑھ گئی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے ابا جان کو کتنی تکلیف ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے ابا جان کو یہ تکلیف نہیں رہے گی۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات ہوئی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے درد بھرے الفاظ کہے کہ آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، آپ کا مقام جنت الفردوس ہے، اور ہم جبرائیل علیہ السلام کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ دفن کے بعد انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے دل آپ صلى الله عليه وسلم پر مٹی ڈالنے پر کیسے آمادہ ہوئے۔ اس حدیث میں بیٹی کا محبت بھرا غم، نبی صلى الله عليه وسلم کی تسلی، اور وفات کا سخت منظر سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنے محبوب کے لیے غم کا اظہار فطری ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف کے ختم ہونے کی خبر دی۔
  • فاطمہ رضی اللہ عنہا کی باتوں میں نبی صلى الله عليه وسلم سے گہری محبت ظاہر ہے۔
  • دفن کے بعد صحابہ کے دلوں پر غم کا اثر بہت شدید تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں