صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کی سادگی اور رہن

نبی صلى الله عليه وسلم کی سادہ زندگی: زرہ تیس صاع جَو کے بدلے رہن

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶۷

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِين " ، يَعْنيِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .

عائشہ روایت:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے یہاں تیس صاع جَو کے بدلے میں گروی رکھی ہوئی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی سادگی اور دنیا سے بے رغبتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَو کے بدلے گروی رکھی ہوئی تھی۔ حدیث میں صرف یہی واقعہ بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے گی جو متن میں موجود ہے: نبی صلى الله عليه وسلم نے ضرورت کے وقت کھانے کے بدلے اپنی زرہ رہن رکھی۔ یہ واقعہ رہن کی حدیث، نبی صلى الله عليه وسلم کی سادگی، سیرت النبی صلى الله عليه وسلم، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی معاشی زندگی جیسے موضوعات میں بہت تلاش کیا جاتا ہے۔ اس میں ہمیں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں تکلف، جمع خوری یا دنیاوی نمائش کا انداز نہیں تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ضرورت کے معاملے کو سادہ طریقے سے پورا کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں سادگی نمایاں تھی۔
  • ضرورت کے وقت چیز رہن رکھ کر معاملہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ حدیث میں واقعہ آیا۔
  • دنیاوی سامان کی کثرت نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی کا مقصد نہیں تھی۔
  • حدیث میں معاشی معاملے کا بیان بھی امانت سے نقل کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں