صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۶ - فدیہ والی آیت کے نسخ کا بیان

فدیہ والی آیت: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۰۶

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنَّهُ قَرَأَ : 0 فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ 0 , قَالَ : هِيَ مَنْسُوخَةٌ " .

ابن عمر روایت:

´ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` انھوں نے یوں قرآت کی «فدية» بغیر تنوین «طَعام مساكين» بتلایا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں روزے کے فدیہ والی آیت کا ذکر ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ‘فدية طعام مساكين’ کی قراءت بیان کی اور فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن کی آیات کے حکم کو سمجھتے اور آگے بیان کرتے تھے۔ اس روایت میں روزہ، فدیہ، منسوخ آیت، اور قراءت جیسے موضوعات آتے ہیں، مگر متن میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے۔ اس لیے وضاحت میں اس سے آگے کوئی نیا حکم شامل نہیں کیا جا سکتا۔ عام قاری کے لیے اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ قرآن کے بعض احکام کی تطبیق صحابہ کے علم اور بیان سے سمجھی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فدیہ والی آیت کے بارے میں نسخ کا بیان کیا۔
  • قرآن کی قراءت اور حکم دونوں کو صحابہ کرام سے سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث میں جو بات آئی ہے اسی تک بات محدود رکھنی چاہیے۔
  • روزے کے مسائل میں آیات کے حکم کی صحیح سمجھ اہم ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں