صحیح بخاری حدیث ۴۵۱۰ - فجر کی سفیدی اور رات کی سیاہی

فجر کی سفیدی: سحری ختم ہونے کی اصل پہچان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۱۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ أَهُمَا الْخَيْطَانِ ؟ قَالَ : " إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا إِنْ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ " لَا ، بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .

عدی بن حاتم روایت:

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (آیت میں) «الخيط الأبيض» اور «الخيط الأسود» سے کیا مراد ہے؟ کیا ان سے مراد دو دھاگے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری کھوپڑی پھر تو بڑی لمبی چوڑی ہو گی۔ اگر تم نے رات کو دو دھاگے دیکھے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان سے مراد رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آیت میں ‘الخيط الأبيض’ اور ‘الخيط الأسود’ سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تنبیہ کے انداز میں جواب دیا، پھر صاف فرمایا کہ نہیں، بلکہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔ یہ حدیث سحری کا وقت، فجر کی سفیدی، اور قرآن کے الفاظ کی صحیح سمجھ کے بارے میں ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا پیغام بہت آسان ہے: روزے کے وقت کا تعلق حقیقی صبح کے ظاہر ہونے سے ہے، نہ کہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے دھاگوں سے۔ اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا انداز بھی سامنے آتا ہے کہ غلط فہمی کو واضح کر دیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفید اور سیاہ دھاگے سے مراد دو عام دھاگے نہیں ہیں۔
  • اس سے مراد رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی ہے۔
  • سحری کے وقت کا تعلق فجر کے ظاہر ہونے سے ہے۔
  • صحابہ کرام مسئلہ سمجھنے کے لیے براہ راست سوال کرتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں