صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۹ - سفید اور سیاہ دھاگے کا مطلب
سحری کا وقت: سفید اور سیاہ دھاگے کی سمجھ
صحیح بخاری : ۴۵۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۰۹
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيٍّ , قَالَ : أَخَذَ عَدِيٌّ , عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ حَتَّى كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ ، فَلَمْ يَسْتَبِينَا فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادِي عِقَالَيْنِ , قَالَ : " إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ أَنْ كَانَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِكَ " .
عدی بن حاتم روایت:
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عامر شعبی نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ` انھوں نے ایک سفید دھاگا اور ایک سیاہ دھاگا لیا (اور سوتے ہوئے اپنے ساتھ رکھ لیا)۔ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو انہوں نے اسے دیکھا، وہ دونوں میں تمیز نہیں ہوئی۔ جب صبح ہوئی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے تکئے کے نیچے (سفید و سیاہ دھاگے رکھے تھے اور کچھ نہیں ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بطور مذاق کے فرمایا کہ پھر تو تمہارا تکیہ بہت لمبا چوڑا ہو گا کہ صبح کا سفیدی خط اور سیاہ خط اس کے نیچے آ گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سحری کے وقت اور آیت کے الفاظ ‘سفید دھاگا’ اور ‘سیاہ دھاگا’ کی سمجھ کا ذکر ہے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے ایک سفید اور ایک سیاہ دھاگا لیا اور رات میں انہیں دیکھتے رہے، مگر دونوں میں فرق صاف نہ ہوا۔ صبح انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہوں نے دھاگے تکیے کے نیچے رکھے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاح کے انداز میں فرمایا کہ پھر تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہوگا، کیونکہ اصل مراد وہ دھاگے نہیں تھے جو تکیے کے نیچے رکھے جائیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سحری کا وقت سمجھنے میں الفاظ کا صحیح مطلب جاننا ضروری ہے۔ یہاں سفید دھاگا اور سیاہ دھاگا ایک علامتی تعبیر ہے، عام دھاگا نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآنی الفاظ کو اپنی طرف سے ظاہری چیزوں پر لاگو کرنے سے پہلے پوچھ لینا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی رضی اللہ عنہ کی غلط فہمی کو واضح فرمایا۔
- سحری کے وقت کا تعلق رات اور صبح کی پہچان سے ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو اہل علم سے سوال کرنا درست ہے۔
