صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۷ - من الفجر اور سحری کے وقت کی وضاحت
من الفجر کے الفاظ اور سحری کے وقت کی صحیح سمجھ
صحیح بخاری : ۱۹۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۱۷
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " أُنْزِلَتْ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 ، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ مِنَ الْفَجْرِ ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " .
سہل بن سعد روایت:
آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے“ لیکن «من الفجر» (صبح کی) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ پہلے آیت کے الفاظ نازل ہوئے کہ کھاؤ پیو یہاں تک کہ سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہو جائے، مگر من الفجر کے الفاظ ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔ کچھ لوگ روزے کا ارادہ کرتے تو سفید اور سیاہ دھاگہ پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں واضح نہ دکھائی دیتے، کھاتے پیتے رہتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے من الفجر کے الفاظ نازل فرمائے۔ اس سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ مراد دھاگے نہیں، بلکہ رات اور دن ہیں۔ یہ حدیث سحری کے وقت، صبح صادق اور قرآن کے الفاظ کی وضاحت کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کے الفاظ کی صحیح سمجھ ضروری ہے۔
- سحری کا وقت صبح صادق تک ہے۔
- دھاگوں سے مراد اصل دھاگے نہیں تھے۔
- صحابہ کرام حکم سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
