صحیح بخاری حدیث ۴۵۱۱ - من الفجر کا حکم اور سحری
سحری کا وقت اور ‘من الفجر’ کی وضاحت
صحیح بخاری : ۴۵۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۱۱
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : وَأُنْزِلَتْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 وَلَمْ يُنْزَلْ مِنَ الْفَجْرِ ، وَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ " .
سہل بن سعد روایت:
جب یہ آیت نازل ہوئی کہ «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» اور «من الفجر» کے الفاظ ابھی نازل نہیں ہوئے تھے تو کئی لوگ جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں پاؤں میں سفید اور سیاہ دھاگا باندھ لیتے اور پھر جب تک وہ دونوں دھاگے صاف دکھائی دینے نہ لگ جاتے برابر کھاتے پیتے رہتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ اتارے تب ان کو معلوم ہوا کہ کالے دھاگے سے رات اور سفید دھاگے سے دن مراد ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت ‘وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود’ نازل ہوئی اور ‘من الفجر’ کے الفاظ ابھی نازل نہیں ہوئے تھے تو کچھ لوگ روزہ رکھنے کے ارادے سے اپنے پاؤں میں سفید اور سیاہ دھاگا باندھ لیتے تھے۔ وہ اس وقت تک کھاتے پیتے رہتے جب تک دونوں دھاگے صاف دکھائی نہ دیتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ‘من الفجر’ کے الفاظ نازل فرمائے، تو معلوم ہوا کہ سیاہ دھاگے سے رات اور سفید دھاگے سے دن مراد ہے۔ یہ حدیث سحری، فجر، اور آیت کے صحیح مطلب کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ مزید وضاحت آنے کے بعد صحابہ نے معنی سمجھ لیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت کے الفاظ ‘من الفجر’ نے سفید اور سیاہ دھاگے کا مطلب واضح کیا۔
- سحری کا تعلق فجر کے وقت سے ہے، پاؤں میں بندھے دھاگوں سے نہیں۔
- صحابہ کرام حکم کو سمجھنے کے بعد اسی کے مطابق عمل کرتے تھے۔
- قرآنی حکم کی صحیح سمجھ وحی کی وضاحت سے آتی ہے۔
