صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۰ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سبقت اور مقام
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت: میرے ساتھی کو چھوڑ دو
صحیح بخاری : ۴۶۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : كَانَتْ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مُحَاوَرَةٌ ، فَأَغْضَبَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ ، فَانْصَرَفَ عَنْهُ عُمَرُ مُغْضَبًا ، فَاتَّبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ يَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَهُ ، فَلَمْ يَفْعَلْ ، حَتَّى أَغْلَقَ بَابَهُ فِي وَجْهِهِ ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ " ، قَالَ : وَنَدِمَ عُمَرُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى سَلَّمَ وَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَصَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَبَرَ ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : وَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ ، يَقُولُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَأَنَا كُنْتُ أَظْلَمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي ؟ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي ؟ " إِنِّي قُلْتُ : " يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا سورة الأعراف آية 158 ، فَقُلْتُمْ : كَذَبْتَ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : صَدَقْتَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ غَامَرَ : سَبَقَ بِالْخَيْرِ .
ابودرداء روایت:
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ بحث سی ہو گئی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر غصہ ہو گئے اور ان کے پاس سے آنے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہو گئے، معافی مانگتے ہوئے۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معاف نہیں کیا اور (گھر پہنچ کر) اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ اب ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم لوگ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہ صاحب (یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ) لڑ آئے ہیں۔راوی نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے طرز عمل پر نادم ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے اور سلام کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ بہت ناراض ہوئے۔ ادھر ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار یہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ! واقعی میری ہی زیادتی تھی۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ مجھے میرے ساتھی سے جدا کرنا چاہتے ہو؟ کیا تم لوگ میرے ساتھی کو مجھ سے جدا کرنا چاہتے ہو؟ جب میں نے کہا تھا کہ اے انسانو! بیشک میں اللہ کا رسول ہوں، تم سب کی طرف، تو تم لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، اس وقت ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں۔ ابوعبداللہ نے کہا «غامر» کے معنی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھلائی میں سبقت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۰ کا خلاصہ
یہ حدیث ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور صحابہ کے باہمی معاملے میں ادب کا بڑا سبق دیتی ہے۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان بات ہوئی، عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ معافی مانگتے رہے۔ پھر معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ میرے ساتھی کو میرے لیے چھوڑتے نہیں؟ پھر آپ نے وہ وقت یاد دلایا جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تھا مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں۔ اس حدیث میں معافی مانگنا، ندامت، صحابہ کا مقام، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سبقت، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سب صاف نظر آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی کے بعد معافی مانگنا اچھا عمل ہے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خیر میں سبقت کی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کا مقام واضح فرمایا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان اور دل دونوں میں ادب ہونا چاہیے۔
