صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۱ - بنی اسرائیل کا حکم بدل دینا
بنی اسرائیل کا حکم بدلنا: اطاعت اور عاجزی کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ سورة البقرة آية 58 فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ ، وَقَالُوا : حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ دروازے میں (عاجزی سے) جھکتے ہوئے داخل ہو اور کہتے جاؤ کہ توبہ ہے، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے، لیکن انہوں نے حکم بدل ڈالا۔ چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہا کہ «حبة في شعرة» یعنی ہم کو بالیوں میں دانہ چاہیئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بنی اسرائیل کے ایک واقعے کو بیان کرتی ہے۔ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہوں اور حطۃ کہیں، یعنی بخشش کی درخواست کا کلمہ۔ وعدہ تھا کہ ان کی خطائیں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن انہوں نے حکم بدل دیا۔ وہ چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور حکم کے لفظ کو بدل کر کچھ اور کہا۔ اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کے حکم کی اطاعت، عاجزی، الفاظ کو نہ بدلنا، اور دین کے حکم کے ساتھ کھیل نہ کرنا ہے۔ جب اللہ کوئی حکم دے تو بندے کا کام اپنی مرضی شامل کرنا نہیں، بلکہ عاجزی کے ساتھ ماننا ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ حکم بدلنا معمولی بات نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے حکم کو اسی طرح ماننا چاہیے جیسے دیا گیا ہو۔
- عاجزی کے بجائے مذاق یا تبدیلی اختیار کرنا خطرناک ہے۔
- دینی الفاظ اور احکام کو بدلنا درست نہیں۔
- معافی کا راستہ اطاعت اور عاجزی سے جڑا ہے۔
