صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۳ - لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کا قرآنی اصول

اخلاق کی اصلاح کی حدیث: خذ العفو وأمر بالعرف کا مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۳

حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ سورة الأعراف آية 199 ، قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ " .

عبداللہ بن زبیر روایت:

آیت «خذ العفو وأمر بالعرف» ”معافی اختیار کیجئے اور نیک کام کا حکم دیتے رہئیے۔“ لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کے لیے ہی نازل ہوئی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۳ کا خلاصہ

یہ حدیث اخلاق کی اصلاح کے موضوع پر مختصر مگر بہت اہم ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے آیت خذ العفو وأمر بالعرف کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگوں کے اخلاق ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں تین باتیں آتی ہیں: معافی اختیار کرنا، نیکی کا حکم دینا، اور لوگوں کے اخلاقی رویے کو درست سمت دینا۔ چونکہ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اسے اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ معاملہ، برداشت، نرمی، اور اچھائی کی دعوت بھی اخلاق کا حصہ ہے۔ اچھے اخلاق کی حدیث، درگزر، نیکی کا حکم، اور اصلاح اخلاق اس کا مرکزی پیغام ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن لوگوں کے اخلاق کی اصلاح بھی کرتا ہے۔
  • معافی اختیار کرنا اچھے اخلاق کا حصہ ہے۔
  • نیکی کا حکم دینا اخلاقی ذمہ داری ہے۔
  • لوگوں کے ساتھ معاملے میں نرمی اور سمجھداری مطلوب ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں