صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۴ - لوگوں کے اخلاق میں درگزر اختیار کرنا

درگزر اختیار کرنے کی حدیث: اخلاقی معاملات میں نرمی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۴

وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ أَوْ كَمَا قَالَ .

عبداللہ بن زبیر روایت:

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کے اخلاق ٹھیک کرنے کے لیے درگزر اختیار کریں یا کچھ ایسا ہی کہا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۴ کا خلاصہ

یہ روایت درگزر اور اخلاق کے موضوع کو بہت سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے نقل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ لوگوں کے اخلاق میں درگزر اختیار کریں، یا اسی طرح کے الفاظ بیان کیے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے رویوں، کمزوریوں اور سخت باتوں کے مقابلے میں ہر وقت سختی اختیار کرنا مطلوب نہیں۔ جہاں دین کی حد باقی رہے، وہاں اخلاقی معاملات میں معافی اور برداشت انسان کو بہتر بناتے ہیں۔ درگزر کی حدیث، اچھے اخلاق، معافی، نرمی، اور اصلاح اخلاق اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ یہ بات روزمرہ زندگی میں گھر، خاندان اور معاشرے کے لیے بہت کارآمد ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں کے اخلاقی معاملات میں درگزر بڑی خوبی ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معافی اور نرمی کا حکم دیا گیا۔
  • ہر سخت بات کا جواب سختی سے دینا ضروری نہیں۔
  • اچھے اخلاق معاشرتی تعلقات کو بہتر بناتے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں