صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۵ - سورۃ الانفال کی تفسیر اور بدر کا پس منظر

سورۃ الانفال کی تفسیر: بدر اور قرآنی الفاظ کے معنی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۵

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سُورَةُ الْأَنْفَالِ ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ الشَّوْكَةُ الْحَدُّ " . مُرْدَفِينَ : فَوْجًا بَعْدَ فَوْجٍ رَدِفَنِي وَأَرْدَفَنِي جَاءَ بَعْدِي ، ذُوقُوا : بَاشِرُوا وَجَرِّبُوا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ ذَوْقِ الْفَمِ ، فَيَرْكُمَهُ : يَجْمَعَهُ ، شَرِّدْ : فَرِّقْ ، وَإِنْ جَنَحُوا : طَلَبُوا السِّلْمُ ، وَالسَّلْمُ ، وَالسَّلَامُ ، وَاحِدٌ ، يُثْخِنَ : يَغْلِبَ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : مُكَاءً : إِدْخَالُ أَصَابِعِهِمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ ، وَتَصْدِيَةً : الصَّفِيرُ ، لِيُثْبِتُوكَ : لِيَحْبِسُوكَ.

سعید بن جبیر روایت:

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتلایا کہ غزوہ بدر میں نازل ہوئی تھی۔ «الشوكة» کا معنی دھار نوک۔ «مردفين» کے معنی فوج در فوج۔ کہتے ہیں «ردفني وأردفني» یعنی میرے بعد آیا۔ «ذلكم فذوقوه ذوقوا» کا معنی یہ ہے کہ یہ عذاب اٹھاؤ اس کا تجربہ کرو، منہ سے چکھنا مراد نہیں ہے۔ «فيركمه» کا معنی اس کا جمع کرے۔ «شرد» کا معنی جدا کر دے (یا سخت سزا دے)۔ «جنحوا» کے معنی طلب کریں۔ «يثخن» کا معنی غالب ہوا اور مجاہد نے کہا «مكاء» کا معنی انگلیاں منہ پر رکھنا۔ «تصدية» سیٹی بجانا۔ «يثبتوك» تاکہ تجھ کو قید کر لیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع سورۃ الانفال کی تفسیر ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر انہوں نے چند الفاظ کے معنی بھی سمجھائے، جیسے الشوكة کا مطلب تیز دھار، مردفين کا مطلب فوج در فوج، فيركمه کا مطلب جمع کرنا، شرد کا مطلب الگ کر دینا، اور جنحوا کا مطلب صلح کی طرف مائل ہونا۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ قرآن فہمی میں الفاظ کے درست معنی جاننا بہت ضروری ہے۔ سورۃ الانفال کی تفسیر اردو میں پڑھنے والا قاری اس حدیث سے سمجھتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کے الفاظ کو موقع اور معنی کے ساتھ سمجھاتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے اہل علم سے پوچھنا مفید ہے۔
  • سورۃ الانفال کا تعلق غزوہ بدر کے اہم واقعے سے ہے۔
  • الفاظ کے معنی جاننے سے آیت کا مفہوم زیادہ صاف ہو جاتا ہے۔
  • صحابہ کرام قرآن کی تفسیر میں الفاظ اور واقعے دونوں کو ملحوظ رکھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں