صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۶ - بدترین لوگ وہ جو عقل سے کام نہ لیں

عقل سے کام نہ لینے والوں کے بارے میں حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ سورة الأنفال آية 22 ، قَالَ : " هُمْ نَفَرٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ " .

ابن عباس روایت:

آیت «إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون» ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔“ بنو عبدالدار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سورۃ الانفال کی آیت إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان نقل ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آیت بنو عبدالدار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ آیت میں ایسے لوگوں کو بہرا اور گونگا کہا گیا جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ یہاں بات ظاہری سننے یا بولنے کی نہیں، بلکہ حق بات کو سمجھنے اور قبول کرنے کی ہے۔ عقل سے کام نہ لینے کی حدیث یا ہدایت کی حدیث تلاش کرنے والے قاری کے لیے یہ روایت واضح کرتی ہے کہ صرف سن لینا کافی نہیں، دل و دماغ سے بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حق بات سننے کے بعد سمجھنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔
  • عقل کو چھوڑ کر ضد پر رہنا پسندیدہ رویہ نہیں۔
  • قرآن بعض اوقات سخت الفاظ سے غلط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • صحابہ کرام آیات کے نزول سے متعلق مخصوص لوگوں کا ذکر بھی کرتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں