صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۷ - قرآن کی عظیم ترین سورۃ

سورۃ فاتحہ قرآن کی عظیم ترین سورۃ کیوں ہے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۷

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي ، فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ ، أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ سورة الأنفال آية 24 ؟ " ثُمَّ قَالَ : " لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ " ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ، وَقَالَ مُعَاذٌ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ حَفْصًا ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ : هِيَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 السَّبْعُ الْمَثَانِي " .

ابوسعید بن معلی روایت:

میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچ سکا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جبکہ وہ (یعنی رسول) تم کو بلائیں۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ اور معاذ بن معاذ عنبری نے اس حدیث کو یوں روایت کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب نے، انہوں نے حفص سے سنا اور انہوں نے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، سنا اور انہوں نے بیان کیا وہ (سورۃ فاتحه) «الحمد لله رب العالمين» ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۷ کا خلاصہ

یہ حدیث سورۃ فاتحہ کی فضیلت کے بارے میں بہت مشہور روایت ہے۔ ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پکارا۔ وہ نماز کے بعد حاضر ہوئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے سورۃ الانفال کی آیت یاد دلائی کہ اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ آخر میں بتایا کہ وہ الحمد لله رب العالمين یعنی سورۃ فاتحہ ہے، جو سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔ سورۃ فاتحہ حدیث، سبع مثانی اور عظیم ترین سورۃ کے موضوع پر یہ روایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ فاتحہ کو اس حدیث میں قرآن کی عظیم ترین سورۃ بتایا گیا ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پکار کا جواب دینا ایمان والوں کے لیے اہم حکم ہے۔
  • سورۃ فاتحہ ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔
  • علم حاصل کرنے کے لیے یاد دہانی اور توجہ دونوں فائدہ دیتی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں