صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۸ - استغفار اور عذاب سے بچاؤ
استغفار عذاب سے بچاؤ کا سبب: ابوجہل کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۶۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۴۸
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ كُرْدِيدٍ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه ، قال : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ " ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ { 33 } وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 32-33الْآيَةَ .
انس بن مالک روایت:
ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب (ہی سرے سے) نہ لائے درآں حالیکہ وہ مسجد الحرام سے روکتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوجہل کا ایک سخت جملہ نقل ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ اے اللہ، اگر یہ کلام تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب لے آ۔ اس پر آیت نازل ہوئی کہ اللہ انہیں اس حال میں عذاب دینے والا نہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم ان میں موجود ہیں، اور نہ اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ پھر آیت میں ان لوگوں کا ذکر بھی آیا جو مسجد الحرام سے روکتے تھے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں ضد بہت خطرناک رویہ ہے، جبکہ استغفار اللہ کی طرف رجوع کا راستہ ہے۔ استغفار کی حدیث اور عذاب سے بچاؤ کے موضوع پر یہ روایت صاف بات کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حق بات کے مقابلے میں ضد کرنا نقصان دہ رویہ ہے۔
- حدیث میں استغفار کو عذاب سے بچاؤ کے ذکر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی موجودگی کو اس آیت میں خاص سبب کے طور پر ذکر کیا گیا۔
- مسجد الحرام سے روکنے والے عمل کی مذمت آیت میں آئی ہے۔
