صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۳ - غار ثور میں اللہ پر بھروسہ
غار ثور کی حدیث: جب اللہ ساتھ ہو تو ڈر کم ہو جاتا ہے
صحیح بخاری : ۴۶۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۶۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ ، فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ رَآنَا ، قَالَ : " مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا " .
انس بن مالک روایت:
مجھ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: انہوں نے کہا کہ میں غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھے (جو ہمارے سر پر کھڑے ہوئے تھے) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور بولے: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث توکل علی اللہ کے موضوع پر بہت دل کو لگنے والی روایت ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ غار ثور میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے۔ انہوں نے مشرکین کے قدم دیکھے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ، اگر ان میں سے کسی نے ذرا قدم اٹھایا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔ اس پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔ اس حدیث میں خطرے کے وقت اللہ پر بھروسہ، نبی صلى الله عليه وسلم کا اطمینان، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی محبت سب ظاہر ہوتے ہیں۔ غار ثور حدیث اور اللہ ہمارے ساتھ ہے جیسے موضوعات میں یہ روایت بہت معروف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطرے کے وقت اللہ پر بھروسہ دل کو سنبھالتا ہے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کی بہت فکر تھی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی معیت کا ذکر کر کے اطمینان دلایا۔
- توکل کا مطلب یہ ہے کہ مشکل گھڑی میں اللہ کو نہ بھلایا جائے۔
