صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۴ - اختلاف میں بھی انصاف اور نسبت کا احترام
اختلاف کے باوجود انصاف: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نسبتیں
صحیح بخاری : ۴۶۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۶۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : " حِينَ وَقَعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، قُلْتُ : أَبُوهُ الزُّبَيْرُ ، وَأُمُّهُ أَسْمَاءُ ، وَخَالَتُهُ عَائِشَةُ ، وَجَدُّهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَجَدَّتُهُ صَفِيَّةُ ، فَقُلْتُ : لِسُفْيَانَ إِسْنَادُهُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا فَشَغَلَهُ إِنْسَانٌ ، وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ جُرَيْجٍ " .
ابن عباس روایت:
جب میرا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اختلاف ہو گیا تھا تو میں نے کہا کہ ان کے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تھے، ان کی والدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا تھیں، ان کی خالہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان کے نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور ان کی دادی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ (عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہ) میں نے سفیان (ابن عیینہ) سے پوچھا کہ اس روایت کی سند کیا ہے؟ تو انہوں نے کہنا شروع کیا «حدثنا» ہم سے حدیث بیان کی لیکن ابھی اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ انہیں ایک دوسرے شخص نے دوسری باتوں میں لگا دیا اور (راوی کا نام) ابن جریج وہ نہ بیان کر سکے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واقعہ نقل ہوا ہے کہ جب ان کا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اختلاف ہوا تو انہوں نے ان کی خاندانی نسبتیں بیان کیں۔ فرمایا کہ ان کے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تھے، والدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا تھیں، خالہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دادی صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ اس روایت کا اصل سبق یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود کسی کی فضیلت اور اچھائی کو چھپایا نہیں جاتا۔ صحابہ کا احترام، اختلاف میں انصاف اور اہل بیت و صحابہ کی نسبت جیسے موضوعات میں یہ روایت ایک خوبصورت انداز دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اختلاف کے باوجود دوسرے کی خوبی بیان کی جا سکتی ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی معزز نسبتیں ذکر کیں۔
- صحابہ کرام کے بارے میں انصاف اور ادب کا انداز اپنانا چاہیے۔
- خاندانی فضیلت بیان کرنا اس وقت درست ہے جب مقصد حق بات کہنا ہو۔
