صحیح بخاری حدیث ۴۶۷۸ - سچائی کا بہترین پھل
سچائی کی حدیث: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا مضبوط عہد
صحیح بخاری : ۴۶۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۷۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ تَبُوكَ : فَوَاللَّهِ ، مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَبْلَاهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي ، مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ إِلَى قَوْلِهِ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ سورة التوبة آية 117 - 119 .
عبداللہ بن کعب بن مالک روایت:
میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ غزوہ تبوک میں اپنی غیر حاضری کا قصہ بیان کر رہے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم! سچ بولنے کا جتنا عمدہ پھل اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا، کسی کو نہ دیا ہو گا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں نے اس بارے میں سچی بات کہی تھی، اس وقت سے آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی تھی «لقد تاب الله على النبي والمهاجرين» کہ ”بیشک اللہ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی۔ آخر آیت «وكونوا مع الصادقين» تک۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۷۸ کا خلاصہ
یہ روایت سچائی کے اثر کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے واقعے کے بعد کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اللہ نے کسی کو سچ بولنے میں اتنا اچھا بدلہ دیا ہو جتنا انہیں دیا۔ جب سے انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے سچ کہا، اس دن سے آج تک انہوں نے جان بوجھ کر جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں جن میں توبہ اور سچوں کے ساتھ رہنے کا حکم آیا۔ اس حدیث میں سچ بولنے کی حدیث، کعب بن مالک کی توبہ، اور جھوٹ چھوڑنے کا عملی عزم ایک ساتھ آتا ہے۔ یہاں سبق بہت صاف ہے: سچ وقتی طور پر مشکل ہو سکتا ہے، مگر انسان کی زندگی بدل سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سچ بولنے کا اثر انسان کی پوری زندگی پر پڑ سکتا ہے۔
- کعب رضی اللہ عنہ نے سچائی کے بعد جھوٹ سے بچنے کا پختہ عزم کیا۔
- اللہ نے سچوں کے ساتھ رہنے کا حکم نازل فرمایا۔
- سچائی کو صرف بات نہیں، زندگی کا طریقہ بنانا چاہیے۔
