صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۰ - عاشوراء کے روزے کی فضیلت
عاشوراء کا روزہ حدیث: موسیٰ علیہ السلام سے نسبت
صحیح بخاری : ۴۶۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَالْيَهُودُ تَصُومُ عَاشُورَاءَ ، فَقَالُوا : هَذَا يَوْمٌ ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ ، فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُمْ ، فَصُومُوا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر فتح ملی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہم ان سے بھی زیادہ مستحق ہیں اس لیے تم بھی روزہ رکھو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عاشوراء کا روزہ ہے۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے دیکھا کہ یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر فتح ملی۔ اس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہم ان سے زیادہ حق دار ہیں، اس لیے تم بھی روزہ رکھو۔ اس روایت میں عاشوراء کا روزہ، موسیٰ علیہ السلام کی نجات، اور شکر کے طور پر روزہ رکھنے کا پہلو آتا ہے۔ حدیث میں جو بات صاف بیان ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس دن کے روزے کا حکم دیا، کیونکہ مسلمانوں کا تعلق موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ حق کے ساتھ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عاشوراء کا روزہ نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے ثابت ہے۔
- موسیٰ علیہ السلام کی نجات کا دن شکر کے ساتھ یاد کیا گیا۔
- مسلمان انبیاء علیہم السلام سے حق کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔
- دینی عمل میں نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی اصل معیار ہے۔
