صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۶ - لوط، یوسف اور ابراہیم علیہم السلام کا ذکر

انبیاء کرام کی حدیث: لوط، یوسف اور ابراہیم علیہم السلام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۹۶

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ، وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِذْ قَالَ لَهُ : أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي‏» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین انبیاء کرام کا ذکر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ اللہ ان پر رحمت فرمائے، وہ مضبوط سہارے کی طرف پناہ لیتے تھے۔ پھر یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں اتنی مدت قید خانے میں رہتا جتنی مدت یوسف علیہ السلام رہے، تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یقین تو ہے، لیکن دل کا اطمینان چاہتا ہوں۔ اس حدیث کا اصل موضوع انبیاء کرام کی شان اور ان کے واقعات سے ادب کے ساتھ بات سمجھنا ہے۔ یہاں ہر جملہ ایک خاص نبی کے واقعے سے متعلق ہے، اس لیے انہیں آپس میں ملانا نہیں چاہیے۔ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ انبیاء کا ذکر ادب، رحمت اور اچھے گمان کے ساتھ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ادب اور احترام کے ساتھ کرنا چاہیے۔
  • لوط علیہ السلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت کی دعا فرمائی۔
  • یوسف علیہ السلام کے قید خانے کے واقعے کا ذکر الگ طور پر آیا ہے۔
  • ابراہیم علیہ السلام کا سوال یقین کے ساتھ دل کے اطمینان کے لیے تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں