صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۹ - معراج میں دودھ کا انتخاب
معراج میں دودھ اور شراب: فطرت کی ہدایت کا سبق
صحیح بخاری : ۴۷۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۹
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ ، قَالَ جِبْرِيلُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .
ابوہریرہ روایت:
معراج کی رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت (اسلام) کی ہدایت کی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ شب معراج بیت المقدس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے دو پیالے پیش کیے گئے؛ ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ اٹھایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ حمد اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت دی۔ حدیث میں صاف بتایا گیا کہ اگر شراب کا پیالہ لیا جاتا تو امت گمراہ ہو جاتی۔ اس روایت کا مرکزی موضوع فطرت اور ہدایت ہے۔ دودھ کا انتخاب پاکیزگی اور درست راہ کی علامت کے طور پر آیا ہے۔ یہ حدیث معراج، بیت المقدس، دودھ، شراب اور فطرت اسلام جیسے اہم الفاظ کے ساتھ سمجھنے والی روایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا انتخاب اللہ کی ہدایت کے مطابق تھا۔
- دودھ کو اس واقعہ میں فطرت کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا۔
- حدیث میں شراب کے مقابلے میں فطری اور پاکیزہ راستے کی طرف اشارہ ہے۔
