صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۱ - عربی لفظ امر کی وضاحت
لفظ امر کا معنی: جاہلیت کے عربی محاورے کی وضاحت
صحیح بخاری : ۴۷۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۱۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَقُولُ لِلْحَيِّ إِذَا كَثُرُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَمِرَ بَنُو فُلَانٍ " . حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ : أَمَرَ .
عبداللہ روایت:
جب کسی قبیلہ کے لوگ بڑھ جاتے تو زمانہ جاہلیت میں ہم ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ «أمر بنو فلان.» (یعنی فلاں کا خاندان بہت بڑھ گیا)۔ ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور اس روایت میں انہوں نے بھی لفظ «أمر.» کا ذکر کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۱ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی قبیلے کے لوگ بڑھ جاتے تو کہا جاتا تھا: «أمر بنو فلان» یعنی فلاں خاندان بہت بڑھ گیا۔ یہاں حدیث کا مقصد کوئی عملی حکم بیان کرنا نہیں، بلکہ ایک لفظ کے استعمال اور عربی محاورے کو سمجھانا ہے۔ قرآن و حدیث کی زبان سمجھنے میں ایسے آثار مدد دیتے ہیں، کیونکہ الفاظ اپنے زمانے کے استعمال کے ساتھ واضح ہوتے ہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع لغت اور تفسیر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم عربی الفاظ کے معنی، محاورے اور استعمال کو نقل کرتے تھے تاکہ بعد کے لوگ نصوص کو بہتر سمجھ سکیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عربی الفاظ کو سمجھنے کے لیے عربوں کے محاورے کا علم مفید ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم الفاظ کے استعمال کو بھی محفوظ رکھتے تھے۔
- ہر روایت کا موضوع حکم نہیں ہوتا؛ بعض روایات لغت اور معنی سمجھانے کے لیے ہوتی ہیں۔
