صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۶ - شب معراج کی رؤیا
شب معراج کی رؤیا: آنکھ سے دیکھا گیا منظر
صحیح بخاری : ۴۷۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۱۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60 ، قَالَ : " هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ ، أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ سورة الإسراء آية 60 ، شَجَرَةُ الزَّقُّومِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» میں «رؤيا» سے آنکھ کا دیکھنا مراد ہے (بیداری میں نہ کہ خواب میں) یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں دکھایا گیا اور «شجرة الملعونة» سے تھوہڑ کا درخت مراد ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» کی تفسیر کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہاں رؤیا سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے، یعنی وہ چیزیں جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو شب معراج میں دکھائی گئیں۔ اسی روایت میں «الشجرة الملعونة» سے زقوم کا درخت مراد بتایا گیا۔ اس حدیث کا موضوع معراج کی رؤیا اور قرآنی تفسیر ہے۔ یہاں خواب کے عام معنی کے بجائے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیداری میں دیکھنے کی وضاحت کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ کے معنی سمجھنے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی تفسیر بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت میں رؤیا کو آنکھ سے دیکھنا قرار دیا۔
- شب معراج میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو دکھائے گئے امور کا ذکر قرآن کی تفسیر میں آیا۔
- زقوم کے درخت کو آیت میں مذکور شجرہ ملعونہ بتایا گیا۔
