صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۵ - جنات اور وسیلہ
جنات کا اسلام اور آیت وسیلہ کی تفسیر
صحیح بخاری : ۴۷۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۱۵
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 ، قَالَ : " كَانَ نَاسٌ مِنَ الْجِنِّ يُعْبَدُونَ فَأَسْلَمُوا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
آیت «الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة» کی تفسیر میں کہا کہ کچھ جِن ایسے تھے جن کی آدمی پرستش کیا کرتے تھے پھر وہ جِن مسلمان ہو گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة» کے بارے میں فرمایا کہ کچھ جن ایسے تھے جن کی آدمی عبادت کرتے تھے، پھر وہ جن مسلمان ہو گئے۔ یہ بیان مختصر ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ جن جنہیں لوگ پکارتے تھے، خود اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بن گئے۔ اس سے توحید کی بات سمجھ آتی ہے کہ مخلوق کو عبادت کا حق نہیں۔ عبادت، دعا اور بندگی اللہ ہی کے لیے ہے۔ حدیث میں صرف اتنی بات آئی ہے کہ جن مسلمان ہوئے؛ اس سے آگے اپنی طرف سے تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔ یہی قرآن کی تفسیر میں احتیاط کا طریقہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جن بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان میں اسلام قبول کرنے والے ہو سکتے ہیں۔
- جس مخلوق کی عبادت کی جائے، وہ خود اللہ کی محتاج ہوتی ہے۔
- آیت وسیلہ کا یہ پہلو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے۔
