صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۴ - وسیلہ اور توحید

وسیلہ کی تفسیر: عبادت صرف اللہ کے لیے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۱۴

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 ، قَالَ : " كَانَ نَاسٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَاسًا مِنَ الْجِنِّ ، فَأَسْلَمَ الْجِنُّ ، وَتَمَسَّكَ هَؤُلَاءِ بِدِينِهِمْ " . زَادَ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ سورة الإسراء آية 56 .

عبداللہ بن مسعود روایت:

آیت) «إلى ربهم الوسيلة» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک (کم بخت) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم» کا شان نزول یہ ہے آخر تک۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «إلى ربهم الوسيلة» کی تفسیر بیان کی۔ کچھ انسان جنوں کی عبادت کرتے تھے، پھر وہ جن مسلمان ہو گئے، مگر عبادت کرنے والے لوگ اپنی پرانی حالت پر قائم رہے۔ یہ روایت توحید کا صاف سبق دیتی ہے کہ عبادت کسی جن، انسان یا مخلوق کے لیے نہیں، بلکہ صرف اللہ کے لیے ہے۔ حدیث میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن بھی اسلام قبول کر سکتے ہیں، جیسا کہ متن میں بیان ہوا۔ اس موضوع کو سمجھتے ہوئے کسی اضافی عقیدے یا قصے کو شامل کرنا درست نہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ جن خود اللہ کی طرف وسیلہ چاہتے تھے، جبکہ لوگ غلطی سے انہی کی عبادت کرتے رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، کسی مخلوق کے لیے نہیں۔
  • حدیث کے مطابق کچھ جن مسلمان ہو گئے مگر ان کے عبادت گزار لوگ پرانی حالت پر رہے۔
  • آیات کی صحیح سمجھ صحابہ رضی اللہ عنہم کی تفسیر سے ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں