صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۹ - دوپٹے سینوں پر ڈالنے کا حکم
دوپٹے سینوں پر ڈالنے کی حدیث: آیت کے بعد صحابیات کا عمل
صحیح بخاری : ۴۷۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۵۹
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ ، تَقُولُ : لَمَّانَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ سورة النور آية 31 أَخَذْنَ أُزْرَهُنَّ ، فَشَقَّقْنَهَا مِنْ قِبَلِ الْحَوَاشِي فَاخْتَمَرْنَ بِهَا " .
عائشہ روایت:
جب یہ آیت نازل ہوئی «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» کہ ”اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں“ تو (انصار کی عورتوں نے) اپنے تہبندوں کو دونوں کنارے سے پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۹ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی پردہ اور خمار کے حکم سے متعلق ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ عورتیں اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالیں، تو عورتوں نے اپنے تہبندوں کو کناروں سے پھاڑا اور ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔ اس روایت میں عمل کی سادگی اور حکم ماننے کی جلدی دونوں موجود ہیں۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک واضح واقعہ ہے کہ آیت سننے کے بعد صحابیات نے اپنے کپڑوں سے ہی پردے کا انتظام کیا۔ اس لیے پردہ کی حدیث اردو میں سمجھنے کے لیے یہ روایت بتاتی ہے کہ قرآن کے حکم کو عملی زندگی میں فوراً جگہ دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت کے نزول کے بعد عورتوں نے فوراً اوڑھنیاں تیار کیں۔
- دوپٹے کو سینے پر ڈالنے کا حکم اس روایت میں صاف نقل ہوا ہے۔
- صحابیات نے موجود کپڑوں سے پردے کا انتظام کیا۔
- دین کے حکم کو زندگی میں عملی شکل دینا اس حدیث کا نمایاں پہلو ہے۔
