صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۰ - قیامت کے دن چہرے کے بل چلایا جانا
قیامت کی حدیث: اللہ چہرے کے بل چلانے پر بھی قادر ہے
صحیح بخاری : ۴۷۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : بَلَى ، وَعِزَّةِ رَبِّنَا .
انس بن مالک روایت:
ایک صاحب نے پوچھا، اے اللہ کے نبی! کافر کو قیامت کے دن اس کے چہرے کے بل کس طرح چلایا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس نے اسے اس دنیا میں دو پاؤں پر چلایا ہے اس پر قادر ہے کہ قیامت کے دن اس کو اس کے چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ نے کہا یقیناً ہمارے رب کی عزت کی قسم! یونہی ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع قیامت اور اللہ کی قدرت ہے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی، قیامت کے دن کافر کو چہرے کے بل کس طرح چلایا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جس اللہ نے اسے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا، کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلا دے؟ اس جواب میں لمبی بحث نہیں بلکہ سیدھی بات ہے: اللہ کی قدرت کو دنیا کے معمولات تک محدود نہ سمجھا جائے۔ انسان دنیا میں پاؤں سے چلتا ہے، مگر قیامت کے دن اللہ جس طرح چاہے گا معاملہ ہو گا۔ قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اللہ کی عزت کی قسم کھا کر اس کی تصدیق کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے معاملات کو دنیا کے عام انداز سے ناپنا درست نہیں۔
- اللہ جس نے انسان کو پاؤں پر چلایا، وہ چہرے کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کا جواب اللہ کی قدرت سے دیا۔
- حدیث انسان کو قیامت اور اللہ کی طاقت پر ایمان یاد دلاتی ہے۔
