صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۱ - سب سے بڑے گناہ کون سے ہیں

کبیرہ گناہوں کی حدیث: شرک، قتل اولاد اور پڑوسی کی بیوی سے زنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶۱

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ح قَالَ :وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ ؟ قَالَ : "أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قُلْتُ ، ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " ، قَالَ : وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

میں نے پوچھا، یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہاری روزی میں شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔راوی نے بیان کیا کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کے لیے نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۱ کا خلاصہ

یہ حدیث کبیرہ گناہوں کے بارے میں بہت واضح جواب دیتی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ کا شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ پھر فرمایا کہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ اس کے بعد آیت کا ذکر ہے جس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارنے، ناحق جان نہ لینے اور زنا نہ کرنے کا بیان ہے۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ ایمان، جان اور پاکیزگی کے حق کو پامال کرنا بہت سنگین گناہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شرک سب سے بڑا گناہ بتایا گیا، کیونکہ اللہ ہی خالق ہے۔
  • رزق کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا بہت سنگین جرم ہے۔
  • پڑوسی کی بیوی سے زنا کو خاص طور پر سخت گناہ بتایا گیا۔
  • حدیث کے آخر میں قرآن کی آیت اس مضمون کی تصدیق کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں