صحیح مسلم حدیث ۲۵۸ - شرک، قتل اور زنا کی سنگینی
بڑے گناہوں کی حدیث اور سورۃ الفرقان کی آیت
صحیح مسلم : ۲۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کون سا بڑا گناہ ہے اللہ کے نزدیک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کا شریک کرے کسی کو حالانکہ پیدا کیا تجھے اللہ نے“ اس نے کہا: پھر کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو قتل کرے اپنی اولاد کو اس ڈر سے کہ وہ کھائے گی تیرے ساتھ“ اس نے کہا: پھر کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو زنا کرے اپنے ہمسایہ کی عورت سے“ پھر اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اسی کے موافق اتارا۔«وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا» (۲۵/الفرقان: ۶۸) اخیر تک۔ یعنی اللہ تعالٰی کے خاص بندے وہ ہیں جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو اور نہیں قتل کرتے اس جان کو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا مگر کسی ناحق کے بدلے اور نہیں زنا کرتے اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اس کی سزا پائے گا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک شخص نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک کون سا گناہ بڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے، حالانکہ اللہ نے تجھے پیدا کیا۔ پھر اولاد کو اس ڈر سے قتل کرنے کا ذکر آیا کہ وہ کھانے میں شریک ہو گی۔ پھر ہمسائے کی عورت سے زنا کا ذکر آیا۔ اس کے بعد حدیث میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کی تصدیق میں سورۃ الفرقان کی آیت نازل فرمائی، جس میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو نہ پکارنے، حرام جان کو ناحق قتل نہ کرنے اور زنا نہ کرنے کا ذکر ہے۔ یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ توحید، جان کی حرمت اور پاکدامنی اسلام میں بہت بڑے اصول ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک اللہ کے حق میں سب سے بڑی زیادتی ہے۔
- ناحق قتل سے سختی سے بچنا لازم ہے۔
- زنا، خاص طور پر ہمسائے کے حق کو پامال کر کے، بہت سنگین گناہ ہے۔
- قرآن اور حدیث ایک ہی اخلاقی پیغام کو مضبوط کرتے ہیں۔
