حدیث ۲۵۷
صحیح مسلم : ۲۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۷
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَال إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ اللہ کے نزدیک بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کا شریک یا برابر والا کسی اور کو بنا دے حالانکہ تجھے اللہ نے پیدا کیا“ (پھر تو اپنے صاحب پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر دوسرے کو مالک بنا دے یہ کتنا بڑا اندھیرا ہے اور مالک اس کام سے کیسا ناراض ہو گا) میں نے کہا: یہ تو بڑا گناہ ہے۔ اب اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی اولاد (لڑکا یا لڑکی) کو مار ڈالے اس ڈر سے کہ تیرے ساتھ روٹی کھائے گا۔“ میں نے کہا: پھر کون سا گناہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو زنا کرے اپنے ہمسائے کی عورت سے۔“
