صحیح مسلم حدیث ۲۵۶ - نماز اور والدین سے حسن سلوک
افضل عمل: وقت پر نماز اور والدین کے ساتھ نیکی
صحیح مسلم : ۲۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۶
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ، أَوِ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب کاموں سے بڑھ کر یا سب سے بڑھ کر کام نماز پڑھنا ہے اپنے وقت پر اور نیکی کرنا ہے ماں، باپ سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑھ کر یا افضل کام نماز کو وقت پر پڑھنا اور والدین سے نیکی کرنا ہے۔ یہاں دو بڑے حقوق ایک ساتھ سامنے آتے ہیں: اللہ کا حق اور والدین کا حق۔ نماز وقت پر ادا کرنا اللہ کے حکم کو سنجیدگی سے لینے کی علامت ہے۔ والدین سے نیکی کرنا گھر کے اندر بندے کے اخلاق کا امتحان ہے۔ بعض لوگ باہر اچھے کام کرتے ہیں مگر گھر میں والدین کے ساتھ سختی کرتے ہیں۔ یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ دینی کامیابی صرف باہر کے کاموں سے نہیں، بلکہ نماز کی پابندی اور ماں باپ کے ساتھ اچھے رویے سے بھی جڑی ہے۔ اس لیے مسلمان کو اپنی نماز اور اپنے والدین دونوں کے معاملے میں بیدار رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وقت پر نماز افضل اعمال میں سے ہے۔
- والدین سے نیکی کو بہت بلند مقام دیا گیا ہے۔
- اللہ کے حق کے ساتھ بندوں کے حق بھی ادا کرنے چاہییں۔
