صحیح مسلم حدیث ۲۵۵ - وقت پر نماز کی روایت
وقت پر نماز اور والدین سے نیکی کی روایت کا بیان
صحیح مسلم : ۲۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا .
دوسری روایت بھی ایسی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوعمرو شیبانی نے اشارہ کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اور ان کا نام نہ لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی میں ہے، مگر اس میں یہ بات آئی کہ ابوعمرو شیبانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور نام نہیں لیا۔ اصل مضمون وہی ہے کہ اللہ کو محبوب اعمال میں نماز کو وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی، اور اللہ کی راہ میں جہاد شامل ہیں۔ اس روایت سے حدیث نقل کرنے کے انداز کا بھی پتہ چلتا ہے کہ راوی کبھی اشارہ کر کے بات بیان کرتا ہے۔ ہمارے لیے اصل سبق عمل کا ہے۔ نماز کو وقت پر ادا کرنا، ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اور دین کے کام میں سنجیدہ رہنا۔ چھوٹے اختلافات روایت کے طریقے میں ہو سکتے ہیں، مگر اصل پیغام واضح رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے اصل پیغام کو سمجھنا ضروری ہے۔
- نماز وقت پر ادا کرنا بار بار تاکید کے ساتھ آیا ہے۔
- والدین سے اچھا سلوک مستقل دینی ذمہ داری ہے۔
