صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۲ - مومن کے جان بوجھ کر قتل کا مسئلہ

جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کرنے کا مسئلہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶۲

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ : " أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 ، فَقَالَ سَعِيدٌ : قَرَأْتُهَا عَلَىابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ ، فَقَالَ : هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ " .

سعید بن جبیر روایت:

´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ` اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق‏» کہ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث نما اثر میں قتل مومن کے مسئلے پر ایک سوال نقل ہوا ہے۔ قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ سعید بن جبیر نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر سورہ فرقان کی آیت پڑھی گئی جس میں قتل نہ کرنے کا ذکر ہے۔ سعید بن جبیر نے بتایا کہ انہوں نے یہی آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ مکی آیت ہے اور سورہ نساء کی مدنی آیت نے اس کے حکم کو اس مسئلے میں منسوخ کر دیا۔ یہاں اصل موضوع جان بوجھ کر مومن کے قتل کی سنگینی ہے، نہ کہ ہر حالت کی تفصیلی فقہی بحث۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کرنا نہایت سنگین معاملہ ہے۔
  • سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں سخت جواب نقل کیا۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مکی اور مدنی آیت کے حکم کا فرق بیان کیا۔
  • قرآنی آیات کے حکم کو سمجھنے کے لیے اہل علم کی وضاحت ضروری ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں