صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۳ - کافر کا منہ کے بل حشر
کافر منہ کے بل کیسے حشر ہو گا؟ اللہ کی قدرت کا جواب
صحیح بخاری : ۶۵۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۲۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا ، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا .
انس بن مالک روایت:
ایک صحابی نے کہا، اے اللہ کے نبی! قیامت میں کافروں کو ان کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے انہیں دنیا میں دو پاؤں پر چلایا اسے اس پر قدرت نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ضرور ہے، ہمارے رب کی عزت کی قسم، بیشک وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع اللہ کی قدرت اور کافر کے حشر کی کیفیت ہے۔ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کے دن کافر کو اس کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ جس ذات نے اسے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا، کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلا دے؟ قتادہ نے کہا: کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت کی قسم۔ حدیث سوال کا جواب دلیل کے ساتھ دیتی ہے۔ جو رب انسان کو عام حالت میں چلاتا ہے، وہ قیامت میں اس کی حالت بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس لیے آخرت کے غیبی امور کو اللہ کی قدرت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
- قیامت میں کافر کے حشر کی ایک کیفیت حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
- دنیا میں چلانے والا رب آخرت میں حالت بدلنے پر بھی قادر ہے۔
- غیبی باتوں میں عقل کو اللہ کی قدرت کے تابع رکھنا چاہیے۔
