صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۴ - ننگے پاؤں حشر
ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۲۴
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً غُرْلًا " ، قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا مِمَّا نَعُدُّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ .
ابن عباس روایت:
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اللہ سے قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور پیدل چل کر بن ختنہ ملو گے۔“ سفیان نے کہا کہ یہ حدیث ان (نو یا دس حدیثوں) میں سے ہے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قیامت کے دن اللہ سے ملاقات اور حشر کی حالت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ سے قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل چل کر اور بغیر ختنہ ملو گے۔ حدیث کے الفاظ انسان کو دنیا کی ظاہری شان و شوکت سے ہٹا کر آخرت کی اصل حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ دنیا میں آدمی کپڑوں، جوتوں، مال، حیثیت اور پہچان پر فخر کرتا ہے، مگر حشر کے دن سب انسان اپنی بنیادی حالت میں اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، صرف ایک صاف حقیقت ہے: اللہ سے ملاقات یقینی ہے، اور اس دن ظاہری سہارا کام نہیں آئے گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن اللہ سے ملاقات یقینی ہے۔
- لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل اور بغیر ختنہ اٹھائے جائیں گے۔
- دنیا کی ظاہری شان آخرت میں ساتھ نہیں رہے گی۔
- حدیث حشر کی حقیقت اور اللہ کے سامنے پیشی یاد دلاتی ہے۔
