صحیح مسلم حدیث ۲۸۵۹ - اشارہ یا حکم نہ ہو تو کھانے کی اجازت
احرام میں شکار کا گوشت: اشارہ نہ کرنے کی شرط
صحیح مسلم : ۲۸۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۵۹
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَإِسْحَاق ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ قَالَ : " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُلُوا " .
عبداللہ بن ابی قتادہ روایت:
ابوقتادہ چند محرم لوگوں میں تھے اور وہ احرام باندھے ہوئے نہ تھے اور وہ حدیث بیان کی اور اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیا اشارہ کیا تم میں سے کسی نے اس کی طرف یا حکم کیا کسی طرح کا؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھاؤ اس کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۵۹ کا خلاصہ
یہ حدیث ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے واقعے کو مختصر مگر بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ ابو قتادہؓ کچھ محرم لوگوں کے ساتھ تھے، مگر خود احرام میں نہیں تھے۔ انہوں نے شکار کیا۔ جب بات نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے آئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا یا کسی طرح کا حکم دیا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اسے کھاؤ۔ اس روایت کا اصل سبق یہی ہے کہ محرموں کا شکار میں اشارہ یا حکم شامل نہیں تھا۔ اس لیے حدیث کی اجازت کو اسی بیان کردہ حالت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اشارہ اور حکم کے بارے میں سوال کیا۔
- صحابہ نے بتایا کہ انہوں نے اشارہ یا حکم نہیں دیا۔
- اس کے بعد کھانے کی اجازت دی گئی۔
