صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۸ - غیب کی پانچ کنجیاں

غیب کی پانچ کنجیاں: قیامت، بارش، رحم، کل اور موت کا علم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۷۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ : ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ سورة لقمان آية 34 ".

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «إن الله عنده علم الساعة» ”بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ مادہ کے رحم میں نر ہے یا مادہ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ لقمان کی آیت تلاوت فرمائی جس میں قیامت کے علم، بارش کے اترنے، رحم میں جو ہے اس کے علم، کل انسان کیا کرے گا، اور انسان کہاں مرے گا، ان باتوں کا ذکر ہے۔ روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ کچھ امور ایسے ہیں جن کا کامل علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ اس حدیث کو غیب کی پانچ باتیں، مفاتیح الغیب، قیامت کا علم، اور اللہ ہی جانتا ہے جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ متن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ غیب کے معاملے میں بندے کو اپنی حد پہچاننی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غیب کی پانچ کنجیوں کا کامل علم اللہ کے پاس ہے۔
  • قیامت کے وقت کا علم اللہ ہی جانتا ہے۔
  • آدمی اپنے کل کے عمل اور موت کی جگہ کو خود نہیں جانتا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس بات کو قرآن کی آیت کے ساتھ بیان فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں