صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۹ - نیک بندوں کے لیے جنت کی نعمتیں

جنت کی نعمتیں: جو نہ آنکھ نے دیکھا نہ دل میں آیا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۷۹

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 ، وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ مِثْلَهُ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ رِوَايَةً ، قَالَ : فَأَيُّ شَيْءٍ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”میں نے اپنے صالح اور نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے گمان و خیال میں وہ آئی ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين» کہ ”سو کسی کو نہیں معلوم جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لیے جنت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔“علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، پہلی حدیث کی طرح۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کر رہے ہیں یا اپنے اجتہاد سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ (اگر یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے) تو پھر اور کیا ہے؟ ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے صالح نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (آیت مذکورہ میں) قرآت (صیغہ جمع کے ساتھ) پڑھا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث قدسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان فرمایا کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ سورۃ السجدہ کی آیت پڑھنے کی طرف رہنمائی کی کہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان چھپا رکھا گیا ہے۔ یہ حدیث جنت کی نعمتوں کے بارے میں امید دلاتی ہے، مگر متن کے اندر رہتے ہوئے صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ نیک بندوں کے لیے اللہ نے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو عام انسانی تصور سے بھی آگے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ نے صالح بندوں کے لیے خاص نعمتیں تیار فرمائی ہیں۔
  • جنت کی بعض نعمتیں انسانی دیکھنے، سننے اور خیال سے بھی باہر ہیں۔
  • ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس مضمون کے ساتھ قرآن کی آیت یاد دلائی۔
  • نیک عمل کرنے والوں کے لیے آخرت کی امید مضبوط ہوتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں