صحیح بخاری حدیث ۴۸۴ - ذوالحلیفہ میں قیام اور نماز کی جگہ
ذوالحلیفہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کا قیام: سفر کی نماز کا بیان
صحیح بخاری : ۴۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۴
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ يَعْتَمِرُ وَفِي حَجَّتِهِ حِينَ حَجَّ تَحْتَ سَمُرَةٍ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ غَزْوٍ كَانَ فِي تِلْكَ الطَّرِيقِ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ هَبَطَ مِنْ بَطْنِ وَادٍ ، فَإِذَا ظَهَرَ مِنْ بَطْنِ وَادٍ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي عَلَى شَفِيرِ الْوَادِي الشَّرْقِيَّةِ فَعَرَّسَ ، ثَمَّ حَتَّى يُصْبِحَ لَيْسَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِحِجَارَةٍ وَلَا عَلَى الْأَكَمَةِ الَّتِي عَلَيْهَا الْمَسْجِدُ كَانَ ، ثَمَّ خَلِيجٌ يُصَلِّي عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَهُ فِي بَطْنِهِ كُثُبٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَمَّ يُصَلِّي فَدَحَا السَّيْلُ فِيهِ بِالْبَطْحَاءِ حَتَّى دَفَنَ ذَلِكَ الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فِيهِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے قصد سے تشریف لے گئے اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب حج کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں قیام فرمایا۔ذوالحلیفہ کی مسجد کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ببول کے درخت کے نیچے اترے اور جب آپ کسی جہاد سے واپس ہوتے اور راستہ ذوالحلیفہ سے ہو کر گزرتا یا حج یا عمرہ سے واپسی ہوتی تو آپ وادی عتیق کے نشیبی علاقہ میں اترتے، پھر جب وادی کے نشیب سے اوپر چڑھتے تو وادی کے بالائی کنارے کے اس مشرقی حصہ پر پڑاؤ ہوتا جہاں کنکریوں اور ریت کا کشادہ نالا ہے۔ (یعنی بطحاء میں) یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو صبح تک آرام فرماتے۔یہ مقام اس مسجد کے قریب نہیں ہے جو پتھروں کی بنی ہے، آپ اس ٹیلے پر بھی نہیں ہوتے جس پر مسجد بنی ہوئی ہے۔ وہاں ایک گہرا نالہ تھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہیں نماز پڑھتے۔ اس کے نشیب میں ریت کے ٹیلے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔ کنکریوں اور ریت کے کشادہ نالہ کی طرف سے سیلاب نے آ کر اس جگہ کے آثار و نشانات کو پاٹ دیا ہے، جہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ذوالحلیفہ کے قریب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہوں کا ذکر کیا ہے۔ روایت میں بتایا گیا کہ عمرہ کے سفر اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں ٹھہرے، مسجد کے قریب ایک ببول کے درخت کے نیچے اترے، اور جب جہاد، حج یا عمرہ سے واپسی ہوتی تو وادی عتیق کے نشیبی علاقے سے گزر کر بطحاء کے کنارے رات کو قیام فرماتے۔ متن میں یہ بھی بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس مقام پر نماز پڑھتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے، لیکن بعد میں سیلاب نے اس جگہ کے آثار مٹا دیے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ صحابہ نے سفر کے حالات، قیام کی جگہ اور نماز کے مقام کو بڑی دقت سے یاد رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذوالحلیفہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سفر کے اہم پڑاؤ میں سے ایک مقام تھا۔
- صحابہ کرام سفر کی جزئیات بھی امانت سے نقل کرتے تھے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلى الله عليه وسلم کے نماز والے مقام کا خاص خیال رکھتے تھے۔
- کسی مقام کے آثار بدل جائیں تو روایت میں اس کی وجہ بھی بیان کی جا سکتی ہے۔
