صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۹ - لات و عزیٰ
لات اور عزیٰ کا ذکر: لات کون تھا؟ حدیث کی وضاحت
صحیح بخاری : ۴۸۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۹
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي قَوْلِهِ : اللَّاتَ وَالْعُزَّى سورة النجم آية 19 كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الْحَاجِّ " .
ابن عباس روایت:
´ہم سے مسلم بن ابراہیم فراہیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاشھب جعفر بن حیان نے بیان کیا، کہا کہ` ہم سے ابوالجوزاء نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لات اور عزیٰ کے حال میں کہا کہ لات ایک شخص کو کہتے تھے وہ حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۹ کا خلاصہ
یہ روایت سورۃ النجم میں آئے ہوئے لات اور عزیٰ کے ذکر سے متعلق ہے۔ ابن عباسؓ نے لات کے بارے میں فرمایا کہ لات ایک شخص تھا جو حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا۔ حدیث کا موضوع بت پرستی کے ناموں کی اصل اور قرآن کی تفسیر ہے۔ یہاں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ روایت صرف لات کے بارے میں یہ بتاتی ہے کہ وہ ایک شخص تھا جو حاجیوں کی خدمت میں ستو تیار کرتا تھا۔ اس متن سے زیادہ تفصیلی تاریخی کہانیاں خود سے شامل کرنا درست نہیں۔ عام فہم انداز میں یوں سمجھیں کہ کبھی کسی شخص یا چیز کا نام بعد میں غلط عقیدے کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس حدیث میں اصل سرچ کی ورڈ لات و عزیٰ حدیث، لات کون تھا، اور سورۃ النجم کی تفسیر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لات کے بارے میں ابن عباسؓ کی مختصر تشریح آئی ہے۔
- بتوں کے ناموں پر بات کرتے وقت روایت کی حد میں رہنا چاہیے۔
- قرآن کی تفسیر میں صحابہ کے اقوال اہم ہیں۔
- غلط عقیدے کے ناموں کو پہچاننا توحید کی سمجھ میں مدد دیتا ہے۔
