صحیح بخاری حدیث ۴۸۶۰ - شرکیہ قسم

لات و عزیٰ کی قسم: لا الہ الا اللہ کہنے والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۶۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کے لیے کہنا چاہئے «لا إله إلا الله» اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ دینا چاہئے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جو شخص قسم کھاتے ہوئے لات اور عزیٰ کہہ دے، اسے چاہیے کہ لا الہ الا اللہ کہے۔ دوسری یہ کہ جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں، اسے صدقہ دینا چاہیے۔ اس کا اصل موضوع شرکیہ الفاظ سے بچنا، توحید کی طرف لوٹنا، اور غلط دعوت کے بعد نیکی کی طرف پلٹنا ہے۔ حدیث میں لات و عزیٰ کی قسم کا خاص ذکر ہے، اس لیے اسے عام گفتگو میں بھی احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیے: مسلمان کی زبان توحید والی ہونی چاہیے۔ اسی طرح جوا کھیلنے کی دعوت بھی معمولی بات نہیں سمجھی گئی؛ اس پر صدقہ کرنے کا حکم آیا۔ اس روایت کا پیغام سادہ ہے کہ زبان سے نکلنے والی بات کی اصلاح فوراً کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے سوا باطل معبودوں کی قسم سے بچنا چاہیے۔
  • غلط لفظ نکل جائے تو توحید کا کلمہ کہنا چاہیے۔
  • جوا کھیلنے کی دعوت دینا بھی قابل اصلاح بات ہے۔
  • غلطی کے بعد نیکی کی طرف پلٹنا حدیث میں بتایا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں