صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۸ - بڑی نشانیاں
رب کی بڑی نشانی: سبز رفرف والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۸
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18 ، قَالَ : " رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
´ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے` آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» یعنی ”آپ نے اپنے رب کی عظیم نشانیاں دیکھیں“ کے متعلق بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «رفرف» (سبز فرش) کو دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعودؓ سے سورۃ النجم کی آیت لقد رأى من آيات ربه الكبرى کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سبز رفرف دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، اس لیے اس کی تشریح بھی مختصر اور محتاط ہونی چاہیے۔ اصل موضوع اللہ کی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ ہے، مگر متن میں خاص طور پر رفرف اخضر کا ذکر آیا ہے۔ اس سے آگے جا کر یہ بتانا کہ اس کی مکمل کیفیت کیا تھی، حدیث میں موجود نہیں۔ ایک عام قاری کے لیے یہ حدیث یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کو اللہ کی بڑی نشانیاں دکھائی گئیں، اور صحابہ نے قرآن کی آیات کی تشریح میں جو بیان کیا، اسے امانت کے ساتھ نقل کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی آیت کی تشریح صحابی کے بیان سے آئی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی دیکھی۔
- سبز رفرف کا ذکر حدیث کے الفاظ میں موجود ہے۔
- غیبی مناظر کی کیفیت میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں کرنی چاہیے۔
