صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۷ - جبرائیل کی رؤیت
محمد صلى الله عليه وسلم نے جبرائیلؑ کو دیکھا: سورۃ النجم کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۷
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زِرًّا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى { 9 } فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى { 10 } سورة النجم آية 9-10 ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ : أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
سلیمان شیبانی روایت:
میں نے زر بن حبیش سے اس آیت کے بارے میں پوچھا «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» الخ یعنی سو دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندے پر وحی کی جو کچھ بھی نازل کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون ہی کو ایک سوال و جواب کے انداز میں بیان کرتی ہے۔ سلیمان شیبانیؒ نے زر بن حبیشؒ سے سورۃ النجم کی آیات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ کا بیان نقل کیا کہ محمد صلى الله عليه وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، جن کے چھ سو پر تھے۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ آیت کے ایک حصے کی تشریح صحابی سے نقل ہوئی، اور اس میں جبرائیلؑ کی اصل صورت کا ذکر آیا۔ جبرائیل کے چھ سو پر والی حدیث لوگوں میں بہت تلاش کی جاتی ہے، مگر اسے سمجھتے ہوئے متن سے آگے نہیں جانا چاہیے۔ حدیث بس اتنی بات بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے جبرائیلؑ کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے؛ باقی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی آیات کی تشریح صحابہ کے بیان سے سمجھنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جبرائیلؑ کو دیکھا، یہ بات اس روایت میں صاف ہے۔
- چھ سو پروں کا ذکر حدیث کے متن میں ہے۔
- غیر بیان شدہ تفصیلات میں قیاس سے بچنا چاہیے۔
