صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۶ - جبرائیل کی اصل صورت
جبرائیلؑ کی اصل صورت: چھ سو پروں والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۵۶
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِرًّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى { 9 } فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى { 10 } سورة النجم آية 9-10 ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ : " أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
سلیمان شیبانی روایت:
میں نے زر بن حبیش سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» یعنی ”صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ بھی نازل کیا“ کے متعلق بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعودؓ نے سورۃ النجم کی آیات فكان قاب قوسين أو أدنى اور فأوحى إلى عبده ما أوحى کے بارے میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، اور ان کے چھ سو پر تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع جبرائیل کی اصل صورت اور وحی کا واقعہ ہے۔ یہاں حدیث واضح کرتی ہے کہ اس مقام پر جس دیکھنے کا ذکر ہے وہ جبرائیلؑ کے بارے میں ہے۔ اس سے معراج اور وحی سے متعلق بات کرتے وقت احتیاط کا سبق ملتا ہے۔ جو الفاظ حدیث میں آئے ہیں، وہی کافی ہیں: نبی صلى الله عليه وسلم نے جبرائیلؑ کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ عام قاری کے لیے یہ حدیث فرشتوں کی حقیقت اور وحی کی عظمت کی یاد دہانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ النجم کی ان آیات کی تشریح ابن مسعودؓ سے منقول ہے۔
- حدیث میں دیکھنے کو جبرائیلؑ کے دیکھنے سے جوڑا گیا ہے۔
- جبرائیلؑ کے چھ سو پروں کا ذکر نص میں آیا ہے۔
- وحی کے معاملے میں اپنی رائے سے بات بڑھانا درست نہیں۔
