صحیح بخاری حدیث ۴۸۶۶ - شق القمر کا عظیم معجزہ
چاند پھٹنے کی حدیث: شق القمر کا نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت واقعہ
صحیح بخاری : ۴۸۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۶۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَكْرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شق القمر یعنی چاند پھٹنے کا معجزہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کے دور میں ایک ایسا نشان ظاہر فرمایا جو عام انسانی طاقت سے باہر تھا۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ چاند پھٹنے کا واقعہ نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ جو لوگ چاند پھٹنے کی حدیث، شق القمر حدیث، یا نبی کا معجزہ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت اصل متن کے ساتھ ایک بنیادی حوالہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چاند پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔
- معجزہ اللہ کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے، انسان اپنی طاقت سے ایسا نہیں کر سکتا۔
- مختصر حدیث میں بھی ایمان کے لیے بڑا سبق ہو سکتا ہے۔
