صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۵ - نبوت کی ابتدا سچے خوابوں سے

نبوت کی ابتدا اور پہلی وحی: اقرأ باسم ربك

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۵۵

حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ { 1 } خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ { 2 } اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ { 3 } سورة العلق آية 1-3 " .

عائشہ روایت:

شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائے جانے لگے۔ پھر آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا «اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم» کہ ”آپ پڑھئے، اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو پیدا کیا ہے) جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔ آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں پہلی وحی کا مختصر مگر صاف بیان ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائے جانے لگے۔ پھر آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اقرأ باسم ربك الذي خلق، خلق الإنسان من علق، اقرأ وربك الأكرم۔ اس روایت میں خاص طور پر نبوت کی ابتدا، سچے خواب، فرشتے کا آنا، اور سورۃ العلق کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے۔ پہلی وحی کی حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قرآن کی پہلی تعلیم اللہ کے نام سے پڑھنے اور انسان کی پیدائش کے ذکر سے شروع ہوئی۔ اس متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے اس کی شرح بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے: نبوت کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا اور پھر وحی کی آیات نازل ہوئیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نبوت کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی۔
  • فرشتے نے سورۃ العلق کی ابتدائی آیات پڑھائیں۔
  • پہلی وحی میں اللہ کے نام سے پڑھنے کا حکم آیا۔
  • انسان کی پیدائش کا ذکر پہلی وحی کی آیات میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں