صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۶ - قلم کے ذریعے تعلیم کی پہلی وحی
پہلی وحی میں علم بالقلم: سورۃ العلق کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۹۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۵۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ ، جَاءَهُ الْمَلَكُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ { 1 } خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ { 2 } اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ { 3 } الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ { 4 } سورة العلق آية 1-4 " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء سچے خوابوں سے کی گئی اور کہا «اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم * الذي علم بالقلم» کہ ”آپ پڑھئے، اپنے پروردگار کے نام کی مدد سے جس نے سب کو پیدا کیا ہے، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، جس نے قلم کو ذریعہ تعلیم بنایا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۶ کا خلاصہ
یہ حدیث پہلی وحی کے مضمون کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی۔ پھر فرشتہ آیا اور سورۃ العلق کی آیات پڑھائیں: پڑھئیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو علق سے پیدا کیا، پڑھئیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔ اس حدیث میں علم، قلم، پیدائش، اور پہلی وحی سب ایک ہی جگہ جمع ہیں۔ چونکہ متن میں یہی بات آئی ہے، اس لیے اس کا اصل سبق بھی یہی ہے کہ وحی کی ابتدا اللہ کے نام، تخلیقِ انسان، اور تعلیم کے ذکر سے ہوئی۔ یہ پہلی وحی کی حدیث قرآن کی ابتدا سمجھنے کے لیے بہت واضح بیان دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبوت کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی۔
- پہلی وحی میں اللہ کے نام سے پڑھنے کا حکم آیا۔
- انسان کی پیدائش کا ذکر سورۃ العلق کی ابتدائی آیات میں ہے۔
- قلم کے ذریعے تعلیم کا ذکر اسی وحی میں آیا ہے۔
