صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۷ - زملونی زملونی کا واقعہ
زملونی زملونی: پہلی وحی کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کا گھر آنا
صحیح بخاری : ۴۹۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۵۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ ، فَقَالَ : زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
عائشہ روایت:
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا «زملوني زملوني» کہ مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ پھر آپ نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۷ کا خلاصہ
یہ حدیث پہلی وحی کے بعد کے ایک مختصر حصے کو بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ اللہ صلی عنہا کے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا: زملونی زملونی، یعنی مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ پھر آپ نے واقعہ بیان فرمایا۔ اس حدیث میں پوری تفصیل نہیں دی گئی، مگر یہ بات صاف ہے کہ پہلی وحی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، اور چادر اڑھانے کو فرمایا۔ اسی لیے یہ روایت زملونی زملونی کی حدیث، پہلی وحی کے بعد کا واقعہ، اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپسی کے عنوان سے دیکھی جاتی ہے۔ اس متن کا اصل پیغام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانی کیفیت اور گھر والوں کے پاس واقعہ بیان کرنے سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پہلی وحی کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے چادر اڑھانے کے الفاظ فرمائے: زملونی زملونی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے پیش آنے والا واقعہ بیان فرمایا۔
- یہ روایت پہلی وحی کے بعد کی کیفیت کا مختصر بیان دیتی ہے۔
