صحیح بخاری حدیث ۴۹۷۴ - توحید اور دوبارہ پیدائش
توحید کی حدیث: اللہ ایک ہے، بے نیاز ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں
صحیح بخاری : ۴۹۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۷۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ : كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي ، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ ، وَلَمْ أُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفْئًا أَحَدٌ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ابن آدم نے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ (ابن آدم) کہتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ نہیں پیدا کروں گا حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں ایک ہوں۔ بےنیاز ہوں نہ میرے لیے کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع توحید اور آخرت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا۔ اللہ فرماتا ہے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ پھر فرمایا کہ ابن آدم نے مجھے گالی دی، یعنی کہا کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔ حالانکہ اللہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ اس حدیث میں توحید کی حدیث، اللہ احد الصمد، دوبارہ زندہ ہونا اور سورة الاخلاص کا معنی واضح ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار اللہ کی بات کو جھٹلانا ہے۔
- اللہ کے لیے اولاد ماننا سخت غلط بات ہے۔
- اللہ ایک، بے نیاز اور ہر برابری سے پاک ہے۔
- پہلی پیدائش اور دوبارہ پیدائش دونوں اللہ کے اختیار میں ہیں۔
